شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 285
285 اخلاقی اسکول میں داخل ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا۔۔۔یا گورنمنٹ افغانستان کی مثال اُس نئے بیل کی ہے جو گردن پر جو ا ر کھنے سے پہلو تہی کرتا اور دولتیاں چلاتا ہے مگر آخر اُس کو جوئے کے نیچے گردن رکھنی پڑتی ہے۔پہلے بھی آخر جو تے ہی گئے اور یہ بھی آخر جو تے ہی جائیں گے۔اور خدا کا کام ان کو بھی کرنا ہی پڑے گا۔مگر مجھے جو خیال آتا ہے وہ یہ آتا ہے کہ ان کی ان بد بختیوں اور وحشیانہ حرکات اور بے وقوفیوں کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہو گا۔مجھے جس وقت گورنمنٹ کا بل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بعید حرکت کی خبر ملی۔میں اُسی وقت بیت الدعا میں گیا اور دعا کی کہ الہی تو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول - تا وہ صداقت اور راستی کو شناخت کر کے اسلامی اخلاق کو سیکھیں اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات سے وہ باز آ جائیں میرے دل میں بجائے جوش اور غضب کے بار بار اس امر کا خیال آتا تھا کہ ایسی حرکت ان کی حد درجہ کی بیوقوفی ہے۔امیر اور اس کے اردگرد بیٹھنے والے گذشتہ تاریخ تو جانتے ہوں گے اور تاریخی حالات اس میں انہوں نے پڑھے ہوں گے اگر اس سے بے خبر ہیں تو کم از کم مسلمان کہلانے کی حیثیت سے وہ قرآن تو پڑھتے ہوں گے اور ان حالات کو بھی پڑھتے ہوں گے کہ ظالموں نے اپنے ظلموں سے صادقوں اور راستبازوں کو ذلیل کرنا چاہا۔اور صداقت اور راستی کے مٹانے کے لئے سر سے پاؤں تک زور مارا۔دد مگر آخر کا رمٹائے جانے والے وہی ہوئے جو کہ ظالم تھے۔انہوں نے اس قرآن میں پڑھا ہوگا کہ ظالموں نے راستبازوں کی جماعتوں کو حقیر اور کمزور سمجھا اور اپنی قوت اور طاقت کے گھمنڈ میں ان کو ہر طرح دکھ دینے کی کوشش کی۔لیکن خدا نے ان کو یہی جواب دیا کہ تم کیا طاقت رکھتے ہو تم سے پہلے تم سے زیادہ طاقتیں رکھنے والی قو میں گزری ہیں جنہوں نے خدا کے راستبازوں کو نابود کرنا چاہا اور جو صداقت وہ لائے اس کو دنیا سے مٹانا چاہا مگر باوجود اس کے وہ راستبازوں کا وجود دنیا سے مٹا نہ سکے اور صداقت دنیا میں پھیل کر رہی۔۔۔اس لئے ان تجربات اور واقعات کی بناء پر اس تقریر کے ذریعہ میں آئندہ آنے