شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 266
266 صاحب کو بغیر کسی جرم اور قصور کے محض احمدی ہونے کی وجہ سے سنگساری جیسی۔۔۔مزا دے کر ہمارے کلیجوں کو چھلنی اور ہمارے سینوں کو زخمی کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور اس حادثہ جا نگاہ اور اس واقعہ روح فرسا سے ہمیں بے حد رنج وغم پہنچا ہے۔لیکن اس الم ناک واقعہ کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جو ہمارے لئے نہایت ہی فخر اور خوشی کا موجب ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ یہ خونِ ناحق ہماری جماعت اور سلسلہ کے لئے نہایت ہی بابرکت اور مفید ثابت ہوگا۔انشاء اللہ تعالی - خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ عسی آن تـکــر هوا شيئاً وهو خير لكم کہ بہت ممکن ہے کہ ایک بات جو تمہیں۔۔۔۔ناگوار معلوم ہوتی ہو۔اپنے انجام اور اثرات کے لحاظ سے تمہارے لئے خیر اور بھلائی کا موجب ہو۔یہ ارشاد خداوندی ایسے ہی واقعات کے متعلق ہے جو اپنی ظاہر شکل وصورت میں سخت تکلیف دہ اور رنج افزا ہوں لیکن ان کے پس پردہ کامیابی و کامرانی و شادمانی اور با مرادی چھپی ہوئی ہو۔انسان اپنے جذبات اور احساسات کے لحاظ سے ان سے دکھ اور تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن وہ دراصل قوم اور جماعت کی سر بلندی اور سرافرازی کی بنیا د ہوں وہ اپنے فوری اور ظاہری اثر کے لحاظ سے دل کو پژمردہ اور روح کو بے چین کر دینے والے ہوتے ہیں لیکن انجام اور عاقبت کے لحاظ سے خوشی اور مسرت کا مژدہ سناتے ہیں۔اس قسم کے واقعات میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کا واقعہ سنگساری بھی ہے۔۔۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ان چند الفاظ نے جو حضور نے اس حادثہ کے متعلق لندن سے تحریر فرمائے ہیں اور جو ۴ اکتوبر کے الفضل میں شائع ہو چکے ہیں۔ہمارے سامنے اس کے روشن پہلوؤں کو نمایاں کر دیا ہے اور ہم پر ظاہر کر دیا ہے۔کہ ہمارا کام سلطنت کا بل کے اس۔۔۔۔فعل کے خلاف اظہار رنج و غم ہی نہیں بلکہ اصل اور حقیقی کام اور ہے۔جو یہ ہے کہ ہمیں اپنی پوری توجہ اس کام کے جاری رکھنے کے لئے کرنی چاہئے جس کی خاطر مولوی نعمت اللہ خان صاحب نے جان دی ہے اور ہمیں ان لوگوں کی یاد کو تازہ رکھنا ہے۔تا کہ ہمارے تمام افراد میں قربانی کا جوش پیدا ہو۔۔۔