شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 233
233 تھے۔۔۔آج اس صدمہ نے حضور کے قلب پر کیا اثر کیا ہو گا اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے مگر ہم جانتے ہیں یہ لوگ بڑے ہی مہربان اور ہمدرد ہوتے ہیں غلاموں کے ایک کانٹے کی تکلیف ان کو دو بھر گذرتی ہے۔چہ جائیکہ ان کا ایک غلام۔ہاں بے گناہ اور معصوم خادمِ دین ایسا خادم جس نے حق کے لیے جان تک کی پرواہ نہ کی اس کے قتل کی اچانک خبر حضور کو پہنچی (۳۱) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کا تار برقی پیغام "شہید کی شہادت کا سچا جواب اس کام کو جاری رکھنا ہے جس کے لیے وہ شہید ہوا“ لنڈن سے ۴ ستمبر کو ے بجکر ۵ منٹ پر چلا ہوا تار بنام مولوی شیر علی صاحب ۵ ستمبر ۱۰ بجے صبح بٹالہ پہنچا اور مغرب کے وقت قادیان ایک آدمی لایا۔حضور اس تار میں تحریر فرماتے ہیں: ظالم امیر کے مولوی نعمت اللہ خان کو بے رحمانہ قتل کرنے کی افسوس ناک خبر پہنچی۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کو اپنا قرب عطا فرمائے۔اور ہمیں اس بڑی مصیبت پر صبر کرنے کی توفیق بخشے۔ا میر نے ہمارے بہادر بھائی کو قتل کیا ہے لیکن وہ اس کی روح کو قتل نہیں کر سکتا۔وہ زندہ ہے۔اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔کیونکہ کوئی شخص ایک سچے مسلمان کو قتل نہیں کر سکتا۔برادران ! غم کے اس وقت میں ہمیں اپنے فرض کو نہیں بھلا نا چاہیے جو ہمارے اس مبارک بھائی کی طرف سے ہم پر عاید ہوتا ہے جس نے اپنی جان خدا کے لیے قربان کر دی ہے۔اس نے اس کام کو شروع کیا ہے جسے ہمیں پورا کرنا ہے۔آؤ ہم اس لمحہ سے یہ مصمم ارادہ کر لیں کہ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک کہ ہم ان شہیدوں کی زمین کو فتح نہ کر لیں گے۔( یعنی وہاں احمدیت نہ پھیلا لیں گے ) صاحبزادہ عبداللطیف - نعمت اللہ خان اور عبد الرحمن کی روحیں آسمان سے ہمیں ہمارے فرائض یا د دلا رہی ہیں۔اور میں یقین کرتا ہوں کہ احمد یہ جماعت ان کو نہیں بھولے گی۔امیر کے اس قابل نفرت فعل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے متعلق جو کچھ تم ضروری خیال کرتے