شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 133 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 133

133 ترجمہ۔اگر چہ لوگ تجھے قتل ہونے سے نہ بچائیں لیکن خدا تجھے بچائے گا۔خدا تجھے ضرور قتل ہونے سے بچائے گا۔اگر چہ لوگ نہ بچائیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ لوگ تیرے قتل کے لئے سعی اور کوشش کریں گے خواہ اپنے طور سے اور خواہ گورنمنٹ کو دھو کہ دے کر۔مگر خدا ان کو ان کی تدبیروں میں نا مرا در کھے گا۔۔۔۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر چہ میں تجھے قتل سے بچاؤں گا مگر تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ہر ایک جوز مین پر ہے آخر فنا ہوگا۔یعنی بے گناہ اور معصوم ہونے کی حالت میں قتل کی جائیں گی۔یہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں محاورہ ہے کہ بے گناہ اور معصوم کو بکرے یا بکری سے تشبیہ دی جاتی ہے۔۔۔پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبد اللطیف اور ان کے شاگر دعبدالرحمن کے بارہ میں ہے کہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تئیس برس بعد پوری ہوئی۔۔۔بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے اور ایک اس کا گوشت ہے جو کھایا جاتا ہے۔یہ دونوں بکری کی صفتیں مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں کیونکہ مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کے وقت انواع اقسام کے معارف اور حقائق بیان کر کے مخالفوں کو دودھ دیا۔گو بد قسمت مخالفوں نے وہ دودھ نہ پیا اور پھینک دیا اور پھر شہید مرحوم نے اپنی جان کی قربانی سے اپنا گوشت دیا اور خون بہایا تا مخالف اس گوشت کو کھاویں اور اس خون کو پیویں یعنی محبت کے رنگ میں۔اور اس طرح اس پاک قربانی سے فائدہ اٹھا دیں اور سوچ لیں کہ جس مذہب اور جس عقیدہ پر وہ قائم ہیں اور جس پر ان کے باپ دادے مر گئے کیا ایسی قربانی کبھی انہوں نے کی؟ کیا ایسا صدق اور اخلاص کبھی کسی نے دکھلایا ؟ کیا ممکن ہے کہ جب تک انسان یقین سے بھر کر خدا کو نہ دیکھے وہ ایسی قربانی دے سکے؟ بے شک ایسا خون اور ایسا گوشت ہمیشہ حق کے طالبوں کو اپنی طرف دعوت کرتا رہے گا جب تک کہ دنیا ختم ہو اور چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس راقم اور اس کی جماعت پر اس ناحق کے خون سے بہت صدمہ گزرے گا اس لئے اس وحی کے ما بعد آنے والے فقروں میں تسلی اور عزا پرسی کے رنگ میں کلام نازل فرمایا جو ابھی عربی میں لکھ چکا ہوں۔جس کا یہ ترجمہ ہے کہ اس مصیبت