شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 6 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 6

شعب ابی طالب 6 پتھر اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا۔(ابن ہشام ، طبری، زرقانی) سردارانِ قریش نے سوچا کہ آپ تو اپنی بات پر قائم ہیں مصالحت کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی چلو ایک پیش کش اور کرتے ہیں آپ کی خدمت میں پیش ہو کر کہا اختلاف دور کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم اور تم اپنی عبادت مشترک کر لیتے ہیں۔تم اپنے خدا کے ساتھ ہمارے بتوں کی بھی عبادت کرو اور ہم اپنے بتوں کے ساتھ تمہارے خدا کی بھی عبادت کر لیں اس طرح دونوں کے معبودوں کا فائدہ دونوں کو پہنچے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا ذرا غور تو کرو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں اپنے خدا کو مانتے ہوئے تمہارے بتوں کی پو جا کروں اور تم بت پرست ہو کر میرے خدا کی عبادت کرو۔انہیں ایام میں سورۃ الکافرون نازل ہوئی جس کا ترجمہ ہے ”اے کا فرو! میں تمہارے طریق کے مطابق عبادت نہیں کرتا اور نہ تم میرے طریق کے مطابق عبادت کرتے ہو اور نہ میں ( ان کی ) عبادت کرتا ہوں جن کی تم عبادت کرتے چلے آئے ہو اور نہ تم (اس کی) عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔تمہارا دین 66 تمہارے لئے ہے اور میرا دین میرے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی فرماتا اور حفاظت کے وعدے بھی کرتا جس سے آپ کو قادر و توانا خدا کی ذات سے طاقت ملتی۔اللہ تعالیٰ دشمنوں کے ہاتھوں ستائے ہوئے بظاہر لا چاری کی حالت میں دن گزارنے والوں سے وعدہ فرماتا ہے۔ہم نے ذکر اُتارا ہے ہم اس کی حفاظت کریں گے۔( الحجر :۱۰)