شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 28 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 28

شعب ابی طالب 28 مسلمانوں کیلئے نہایت ہی سخت تھا اور تکالیف انتہا کو پہنچ چکی تھیں۔اس کشف کا سنانا مکہ الوں کیلئے جنسی اور استہزاء کا نیا موجب ہو گیا اور انہوں نے ہر مجلس میں آپ کے اس کشف پر جنسی اُڑانی شروع کی مگر کون جانتا تھا کہ نئے یروشلم کی تعمیر شروع تھی۔مشرق و مغرب کی قومیں کان دھرے خدا کے آخری نبی کی آواز سننے کے لئے متوجہ تھیں“۔نبوت کا پیغام ملے دس سال ہو چکے تھے اہل مکہ اور اہل طائف نے دردناک مظالم کے ساتھ آپ کی طرف سے تبلیغ اسلام کی کوشش میں رکاوٹیں ڈالیں۔آپ نے مکہ کے ارد گرد کے قبائل کی طرف توجہ مبذول فرمائی۔حج کے موقع پر اور عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز کے میلوں میں آپ جہاں چار آدمی جمع ہوتے پیغام حق دینا شروع کر دیتے۔قریش کے لوگ ہر ممکن روک بنتے۔آپ کا چا ابولہب تو اتنا بے عقل تھا کہ اونچی اونچی بولنا شروع کر دیتا تا کہ آپ کی آواز شور میں دب جائے۔وہ کہتا لوگو اس کی بات نہ سنو یہ اپنے دین سے پھر گیا ہے اور تمہارا دین بھی بگاڑ نا چاہتا ہے لوگ جب دیکھتے کہ آپ کے رشتے دار ہی جھٹلا رہے ہیں تو وہ کہتے کہ یہ لوگ ہم سے زیادہ جانتے ہیں اس لئے ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ابو جہل کی کوشش کے متعلق ایک صحابی کہتے ہیں۔میں نے آپ کو ذوالحجاز میں دیکھا کہ آپ لوگوں کے مجمعوں میں گھس کر تو حید کا وعظ فرماتے پھر تے اُس وقت ابو جہل آپ کے پیچھے پیچھے تھا اور آپ پر خاک پھینکتا جاتا تھا اور کہتا تھا لوگو اس کے فریب میں نہ آنا یہ کہتا ہے کہ تم کولات وعربی کی پرستش سے پھیر دے۔(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۴۔سیرت خاتم النبین ۲۱۸،۲۱۷) آنحضرت سان اسلام کا دورہ قبائل بھی عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ہر دو جہان کا بادشاہ جس کا نام لینے پر بعد کے مسلمان شہنشاہ ، جن کے نام سے دنیا کا نپتی تھی ، اپنے تختوں سے