شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 34
شعب ابی طالب 34 نہیں تمہارا اور میرا خون اکٹھا بہے گا تمہاری ذمہ داری میری ذمہ داری ہو گی تم میرے ہو گے اور میں تمہارا جس سے تمہاری لڑائی ہوگی میری بھی اُس سے جنگ ہوگی اور جس سے تمہاری صلح ہوگی میری بھی اُس سے صلح ہوگی۔تاریخ میں یہ بھی آتا ہے کہ انصار نے عرض کی۔یارسول اللہ اگر اجازت ہو تو کل ہی تلوار سونت کر مکہ والوں پر ٹوٹ پڑیں لیکن حضور نے فرمایا مجھےلڑنے کی اجازت نہیں مجھے دعا اور صبر کا ارشاد ہے“۔اس موقع پر ایک انصاری نے کہا، اسے خزرج کے گروہ جانتے ہو تم اس شخص کی کس بات پر بیعت کر رہے ہو تم ہر شخص سے جنگ کی ٹھان رہے ہو۔اگر جان ومال فدا کر سکتے ہو تو آگے بڑھوا گر نہیں تو دنیا و آخرت میں رسوائی ہوگی۔اگر جائیداد قربان کرنے کیلئے تیار ہو تو دنیا و آخرت میں تمہارے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے۔اس پر عباس بن عبادہ انصاری نے کہا ” یارسول اللہ اگر ہم نے وفاداری کی تو ؟ رسول اللہ نے فرمایا تو تمہارے لئے جنت کا وعدہ کرتا ہوں انصاری نے کہا ہاتھ بڑھائیے یا رسول اللہ اور مدینے سے آنے والے لوگوں نے اس رات حضور" کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر وفاداری کا عہد باندھا۔(ابن ہشام جز واول ، جلد ثانی صفحات ۳۰۳ تا ۳۰۵) یہ بیعت بیعت عقبہ ثانیہ کہلاتی ہے۔✰✰✰ اللهم صل على محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد