شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 33
شعب ابی طالب 33 سے ایک کا نام ام عمارہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب سب بیٹھ گئے تو حضور کے چچا حضرت عباس نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔اے گروہ خزرج ہم نے محمد ( سال شما پی نہم) کی حفاظت کی اب ان کا ارادہ تمہارے ہاں آنے کا ہے اگر تم اس امانت کی حفاظت کرنا چاہتے ہو تو اس راہ کے خطرات کو سوچ لو۔اگر تم نے کمزوری دکھانی ہے تو اس بوجھ کو نہ اُٹھاؤ۔میٹرب سے آنے والے قافلہ کے سردار البراء اور اہل قافلہ نے بڑے غور سے حضرت عباس کی باتوں کو سنا اور بہت کچھ سمجھ گئے۔معاملہ کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے البراء نے خواہش ظاہر کی کہ آپ خود کچھ ارشاد فرمائیں۔آنحضور نے بڑے دلنشین انداز میں قرآن پاک کی تلاوت کے بعد کچھ نصیحتیں فرمائیں اور فرمایا ، کیا تم اس طرح میری حفاظت کرو گے جس طرح اپنے اہل وعیال کی کرتے ہو، براء نے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور جوش و جذبے سے عرض کی اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ہم اپنی پوری قوت سے آپ کا دفاع کریں گے۔یارسول اللہ ! ہماری بیعت لیجئے ہم جنگی سپوت ہیں ہم نے شجاعت ورثہ میں پائی ہے۔“ ابولہیثم بن تیہان انصاری نے عرض کی یا رسول اللہ اگر ہم نے ایسا کر لیا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو غالب کر دیا تو کیا آپ ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کی طرف تو نہیں چلے جائیں گے۔آپ مسکرا دیئے اور فرمایا