شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 5 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 5

شعب ابی طالب 5 رسول ہوں اور اُس کا پیغام لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔میرے دل میں تمہارے لئے ہمدردی ہے اگر تم اللہ تعالیٰ کی بات مان لو گے تو دین و دنیا میں فائدہ حاصل کر لو گے اگر نہیں مانو گے تو میں صبر کے ساتھ تمہیں بھلائی کی طرف بلاتا رہوں گا اور اپنے ربّ کے فیصلہ کا انتظار کروں گا“۔قریش نے کہا :۔ہم تم کو کیسے نبی مان لیں اگر تم نبی ہوتو کچھ ایسی بات دکھاؤ جس سے ہم سمجھ جائیں کہ واقعی تمہارا خدا سے تعلق ہے۔ہماری خشک پتھریلی زمین کو سرسبز بنوا دیتے اس میں نہریں جاری کروا دیتے۔تمہارے ساتھ کو ئی فرشتے ہوں تم محلات میں رہتے۔تمہارے ہاتھوں میں سونے چاندی کے ڈھیر ہوتے تو ہم تمہیں نبی مان لیتے تم تو ہماری طرح بازاروں میں پھرتے ہو عام آدمی ہو۔ہمارے نہ ماننے پر یہ بھی نہ ہوا کہ کوئی عذاب ہی آتا۔آسمان کا ٹکڑا ہم پر گر جاتا یا فرشتوں کی کوئی فوج ہی آکر ہمیں سزا دیتی یہ سب نہیں ہے تو پھر ہم خود فیصلہ کریں گے کہ ہم زندہ رہتے ہیں یا تم زندہ رہتے ہو۔آپ نے فرمایا ”میں تو خدا تعالیٰ کا رسول ہوں میں سچ اور جھوٹ بتانے کیلئے آیا ہوں میں نے ان سب چیزوں کا وعدہ ہی نہیں کیا جو تم مطالبے کرتے ہو ہاں اگر تم میری بات مان جاؤ تو خدا تعالیٰ کا طریق یہ ہے کہ وہ ماننے والوں کو دین اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتا ہے“۔آپ سی ایم کو تو پہلے ہی اندازہ تھا کہ قوم نے اصل حقیقت کو سمجھا ہی نہیں ہے بہت بوجھل دل کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ادھر قریش غصے کی آگ میں جلنے لگے اور فیصلہ کیا کہ اب آپ کو جان سے مار دیا جائے چنانچہ اگلے دن بد بخت ابو جہل بڑا سا پتھر لے کر صحن کعبہ میں ایک طرف کھڑا ہو گیا کہ آپ کے سر پر دے مارے گا مگر جب آپ تشریف لائے تو وہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکا