شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 19
شعب ابی طالب 19 اس خواب سے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی ملی کہ آپ دوسری شادی کر لیں۔اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ایک صحابیہ خولہ بنت حکیم زوجہ عثمان بن مظعون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے۔آپ نے فرمایا۔کس سے کروں؟ اُس نے عرض کیا کہ ” آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور بیوہ عورت بھی“ آپ نے فرمایا کون خولہ نے عرض کیا ” کنواری تو آپ کے عزیز دوست ابوبکر صدیق کی لڑکی عائشہ ہے اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہے۔جو آپ کے خادم سکران بن عمر مرحوم کی بیوہ ہے آنحضرت صلی لا یہی تم نے فرمایا اچھا تو پھر تم ان دونوں کے متعلق بات کرو خولہ نے دونوں جگہ بات کی دونوں کے عزیزوں نے کہا کہ اس سے زیادہ خوشی کی کیا بات ہو سکتی ہے۔اس طرح شوال ! نبوی میں آنحضرت صلی ای ایم کا ان دونوں سے چار چار سو درہم مہر پر نکاح پڑھا گیا۔(زرقانی،اسدالغابہ ) حضرت سودہ تو نکاح کے ساتھ ہی رخصت ہو کر آپ کے گھر شریف لے آئیں لیکن حضرت عائشہ ابھی چھوٹی تھیں اس لئے رخصت نہ مؤخر کر دیا گیا۔غالبا آپ ابھی شعب ابی طالب میں ہی تھے کہ شق القمر کا مشہور معجزہ ظاہر ہوا۔( سیرت خاتم النبین صفحہ ۱۶۸) شق کہتے ہیں پھٹ جانا دو حصوں میں بٹ جانا اور قمر پورے چاند کو کہتے ہیں۔چاند کا پھٹ جانا ایک معجزہ تھا جو رسول کریم مالی اسلم کواللہ تعالیٰ نے عطا فر مایا۔کفار مکہ نے مطالبہ کیا کہ آپ ہمیں کوئی معجزہ دکھا ئیں۔آپ نے اپنی انگلی اٹھا کر چاند کی طرف اشارہ فرمایا