شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 26 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 26

شعب ابی طالب 26 تلواریں سونت لو اور میرے ساتھ چلو اور شہر میں اعلان کرتے جاؤ کہ مطعم نے محمد لیم ) کو پناہ دی ہے اگر کسی کی جرات ہو تو وہ ہم سے لڑے۔اگر محد کو کوئی معمولی زخم بھی آیا اور تم میں سے کوئی زندہ بچ رہا تو میں زندگی بھر اس کی شکل نہیں دیکھوں گا“ چنانچہ وہ شہر کے دروازے پر گیا۔وہ رئیس تھا اور شہر والوں پر اس کا رعب تھا۔پھر اُس کے ساتوں بیٹے تلواریں سونتے ہوئے اُس کے ساتھ تھے اس لئے کسی شخص کو اُن کی مخالفت کی جرات نہ ہوئی اور اپنی حفاظت میں محمد ( سال شما پیام ) کو آپ کے گھر لے آئے جب آپ اپنے مکان میں داخل ہوئے تو مطعم بن عدی نے آپ سے دریافت کیا کہ آیا اُسے اپنے گھر جانے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا آپ کا شکریہ ،اپنے گھر جاسکتے ہیں۔الازهار لذوات الخمار صفحه ۱۹۴) طائف کا سفر آنحضرت صلی ایتم کی زندگی کا ایک خاص واقعہ ہے اس سفر کے حالات سے آپ کی ارفع شان اور بلند ہمتی اور بے نظیر صبر و استقلال کا پتہ چلتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی ایام سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو کبھی جنگ اُحد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے؟ آپ نے فرمایا عائشہ تیری قوم کی طرف سے مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں“۔پھر آپ نے سفر طائف کے حالات سنائے اور فر ما یا اُس سفر سے واپسی پر میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ مجھے خدا نے آپ کے پاس بھیجا ہے تا اگر ارشاد ہو تو