شرح القصیدہ — Page 154
شرح القصيده ۱۵۴ مگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حسب و نسب کا مطلقاً ذکر نہیں کیا گیا۔میں نے اُس سے پوچھا آپ قرآن مجید کو خدا کا کلام مانتے ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ؟ اُس نے جواب دیا۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا۔میں نے کہا۔کس مسیح کے نسب کو بے عیب ثابت کیا۔اس طرح بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ مزگی کا ہوا۔جو اُستاد کا مرتبہ ہے۔میں نے کہا۔آپ کا استدلال درست نہیں۔قرآن مجید انساب کی کتاب تو ہے نہیں کہ سب انبیاء کے حسب و نسب کا ذکر کیا جاتا۔حضرت مسیح کے ماں باپ اور ان کے سلسلہ نسب کے ذکر کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے نسب پر طعن کی گئی تھی۔خود آپ کی مقدس کتاب انجیل متی کے باب اول میں مسیح کا جو نسب نامہ لکھا گیا ہے اُس میں اُن کی دو دادیاں زنا کار بتائی گئی ہیں۔جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اُن کے نبی ہونے کا ذکر کیا تو ساتھ ہی یہ بھی ذکر کر دیا کہ اُن کا سلسلہ نسب بھی پاک اور بے عیب تھا۔ظاہر ہے کہ سفید بے داغ کپڑے کو دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہاں اگر میلا ہو یا اُس میں کوئی دھبہ لگا ہو تو وہ دھویا اور صاف کیا جاتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب و نسب تمام لوگوں کے نزدیک بے داغ اور پاک وصاف تھا اس لئے اس کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔اگر آپ کی طرز استدلال اختیار کی جائے تو آیتو مَا كَفَرَ سُلَيْمن “ ( البقرة : ۱۰۳) سے بآسانی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح کافر تھے کیونکہ اُن سے کفر کی نفی ایسے رنگ میں نہیں کی گئی جس رنگ میں حضرت سلیمان علیہ السلام سے کی گئی ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے نفی کفر کی وجہ بھی یہی تھی کہ اُن پر کفر و شرک کا الزام لگا یا گیا تھا۔(دیکھو ا۔سلاطین باب ۱۱)