شرح القصیدہ — Page 137
شرح القصيده ۱۳۷ دوسرے مصرعہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ پر ہر زمانے کی نعمت ختم کی گئی۔قرآن مجید میں ظاہری لحاظ سے بڑی نعمت بادشاہت اور روحانی لحاظ سے بڑی نعمت نبوت بیان کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رنگ کی ظاہری بادشاہت عطا ہوئی اور جس قسم کی وفادار اور جاں نثار رعیت ملی تمام دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی میں آپ کو جزیرہ عرب ، یمن ، نجد اور بحرین کی حکومت بخشی اور فرمایا رِزْقُ رَبِّكَ خَيْرُ و ابقى“ (طه :۱۳۲ ) کہ تیرے رب نے جو کچھ تجھے عطا کیا ہے وہ بہت عمدہ اور اچھا اور دیر پا ہے۔آپ نے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے متعلق خاص طور پر پیشگوئی فرمائی کہ وہ غیر مسلم قوم کے قبضے میں نہیں جائیں گے جو اُن کی تقدیس کی قائل نہ ہو۔چودہ سوسال سے اس پیشگوئی کی صداقت ظاہر ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ملک آپ کی زندگی میں آپ کو عطا فرمایا تھا وہ آپ کے پیروؤں کے پاس ہی رہا اور کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض نہ ہوسکی۔کیا اس نعمت کی کوئی مثال ساری دنیا میں سے پیش کی جاسکتی ہے؟ روحانی نعمت نبوت بھی آپ کو نہایت اکمل صورت میں ملی اور آپ کو خاتم النبیین کا لقب عطا کیا گیا اور نبوت کی نعمت کے آپ پر ختم ہونے سے بھی یہی مراد ہے کہ آپ پر کمالات نبوت ختم ہیں یعنی نبوت کے جو کمالات دوسرے انبیاء میں جزوی طور پر پائے گئے تھے وہ آپ میں کلی طور پر پائے گئے ہیں اور آپ مستجمع جمیع کمالات نبوت ہیں یعنی نبوت کا کوئی درجہ اور کوئی مقام ایسا نہیں جو کسی اور نبی کو تو حاصل ہوا ہو لیکن آپ کو حاصل نہ ہوا ہو۔پھر آپ کا خاتم النبیین ہونا آپ کے جامع کمالات اور تمام انبیاء سے افضل