شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 131 of 198

شرح القصیدہ — Page 131

شرح القصيده ۱۳۱ پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا جو ہمیشہ ہمیش کام دے اور کوئی خرابی اور نقص کبھی اس میں دخل نہ پا سکے۔پس انسانی کاموں کا نقص عدم علم کامل اور عدم قدرت کا ملہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے اور قدیر بھی۔اس کا علم بھی کامل ہے اور اس کی قدرت بھی کامل۔پس جب وہ کسی چیز کے بنانے کا ارادہ کرے تو وہ ناقص کس طرح رہ سکتی ہے۔اس حدیث قدسی کا مفہوم یہ ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جب میں نے مخلوقات کا سلسلہ شروع کیا اور تمام مخلوقات میں سے انسان کو اشرف ٹھہرایا تو ضروری تھا کہ میں اس اعلیٰ اور کامل انسان کو بھی پیدا کرتا جس پر دائرہ کمالات انسانی ختم ہو جا تا اور اس سے بڑھ کر کسی انسان میں کمالات انسانی کا پایا جانا متصور نہ ہوسکتا۔اور وہ کامل انسان تو ہے جو ختم شد برنفس پاکش ہر کمال کا مصداق اور دائرہ انسانیت کا نقطه مرکز یہ ہے۔اس لئے اگر تیرا پیدا کر نامہ نظر نہ ہوتا تو میں سلسلہ مخلوقات کو شروع ہی نہ کرتا۔جب شروع کیا تو تیرا ( جو کامل انسان ہے ) پیدا کرنا بھی ضروری تھا۔یہ ٹن کر وہ دونوں تا جر خوش ہوئے اور کہا کہ آج اس حدیث کا صحیح مفہوم معلوم ہوا ہے۔انسانی کمالات میں سے ایک کمال اخلاق فاضلہ سے متصف ہونا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: ۵) کہ اے رسول تو خلق عظیم پر ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارمِ اخلاق کا ایسا مستم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصوّ رنہیں۔کیونکہ لفظ عظیم محاوہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔اخلاق فاضلہ میں سے ایک خُلق باوجود سزا دینے کی مقدرت رکھنے کے عفو ہے