شرح القصیدہ — Page 126
شرح القصيده ۱۲۶ ترجمہ۔وہ خوش خلق ، معز ز ، صاحب جود وعطا، تقومی دوست ، کریم وسخی ہے اور سب جوانوں پر فائق ہے۔شرح۔اس شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چند اور خوبیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعریف میں فرمایا ہے:۔إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:۵) کہ آپ اخلاق کے انتہائی کمال سے متصف ہیں۔۴۴- فَاقَ الْوَرَى بِكَمَالِهِ وَ جَمَالِهِ و جَلالِهِ وَ جَنَانِهِ الرَّيَّانِ معانی الالفاظ - الريان : عظمان یعنی پیاسے کی ضد ہے۔سیراب و شاداب۔ترجمہ۔وہ سب مخلوقات سے اپنے کمال اور اپنے جمال اور اپنے جلال اور اپنے شاداب دل کے ساتھ فوقیت لے گیا ہے۔شرح۔یعنی ان اوصاف میں آپ کا کوئی ہمسر اور شریک نہیں۔آپ کے جلال کا یہ حال تھا کہ بڑے بڑے بادشاہ آپ سے لرزتے تھے۔آپ نے فرمایا أُعْطِيتُ الرُّعْبَ مَسِيرَةَ شَهَرَيْن که دو مہینے کے سفر پر رہنے والی حکومتیں بھی