شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 103 of 198

شرح القصیدہ — Page 103

شرح القصيده ۱۰۳ شرح۔اس شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ پہلے نبی اپنی اپنی قوم کو اس رنگ کی پائیدار اور کامل روحانی زندگی عطانہ کر سکے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قوم عرب کو حاصل ہوئی۔دنیا میں جس قدر رسول و نبی آئے اُن سب کا اہم مقصد اور عظیم الشان مشن تو حید الہی کی تبلیغ تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُوْلًا أَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ (النحل:۳۷) یقیناً ہم نے ہر قوم کی طرف رسول بھیجے اور اُن میں سے ہر رسول نے یہی تعلیم دی کہ تم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اور تمام طاغوتی طاقتوں سے اجتناب اختیار کرو۔“ رسولوں کے اس مشترکہ مشن کو ملحوظ رکھ کر جب اُمتِ محمدیہ کا دوسری اُمتوں سے مقابلہ کیا جائے تو جس رنگ میں کیفیت و کمیت کے لحاظ سے امت محمدیہ توحید پر قائم رہی اس کی نظیر کسی اور رسول کی اُمت میں نہیں پائی جاتی۔حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں سے چندلوگ ایمان لائے اور باقی قوم بت پرستی اور فسق و فجور پر قائم رہی۔آخر ہلاک کی گئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کی یہ حالت تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہی ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر کہنے لگی اجْعَل لَّنَا الهَا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ (الاعراف : ۱۳۹) ہمارے لئے بھی ایک معبود بنادو جیسے اس قوم کے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود ہیں۔اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن