شرح القصیدہ — Page 179
شرح القصيده 129 اور درود بھیج محمد اور آل محمد پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے صلی اللہ علیہ وسلم یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اور تفضلات اور عنایات اسی کے طفیل سے ہیں اور اسی سے محبت کرنے کا یہ صلہ ہے۔سبحان اللہ ! اُس سرور کائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا قرب ہے کہ اس کا محب خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اُس کا خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اِس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اُسی رات خواب میں دیکھا کہ (فرشتے) آپ زُلال کی شکل پر ٹور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔اور ایک نے اُن میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی 66 تھیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلدا صفحه ۵۹۸،۵۹۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) يَا سَيِّدِى قَدْ جِئْتُ بَابَكَ لَاهِفًا وَ الْقَوْمُ بِالاكْفَارِ قَد أَذَانِي معانی الالفاظ - لاول۔بے بس۔فریادی جود اوری کا خواہاں ہو۔مظلوم - لاهفُ الْقَلْبِ سوختہ دل۔دل جلا۔