شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 153 of 198

شرح القصیدہ — Page 153

شرح القصيده ۱۵۳ اور معصوم تھے اور کوئی نبی اس صفت میں اُن کا شریک نہ تھا۔میں نے جواب دیا اگر قرآن مجید میں یہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی استعمال ہوا ہوتا تو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا کہ آنحضرت اور حضرت مسیح درجہ میں مساوی ہیں مگر میں نے یہ کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُستاد کی طرح ہیں اور مسیح علیہ السلام شاگرد کی طرح۔چنانچہ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسی مادہ سے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ میرے دعویٰ کی تائید کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِم ( الجمعة : ٣) کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں خدا تعالیٰ نے امیوں کی طرف انہی میں سے رسول کر کے مبعوث کیا وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا اور انہیں پاک کرتا ہے۔اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزگی ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔یعنی دوسروں کو مسیح جیسا پاک بنا دینے والا۔آپ کا خیال تھا کہ قرآن مجید سے حضرت مسیح علیہ السلام کا تمام انبیاء حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہونا ثابت ہے لیکن قرآن مجید کی اس آیت کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُستاد کا مرتبہ رکھتے ہیں اور حضرت مسیح “ شاگرد کا۔حضرت مسیح علیہ السلام زکی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مزگی یعنی زکی بنانے والے۔دوسری آیت۔میرے دریافت کرنے پر اس نے دوسری بات یہ پیش کی کہ قرآن مجید میں حضرت مسیح" کے نسب کے بے عیب ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔