شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 94 of 198

شرح القصیدہ — Page 94

شرح القصيده ۹۴ آیات جن میں مخصوص عورتوں سے نکاح حرام کیا گیا ہے یہ ہیں۔" وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ أَبَاءُ كُمْ سے لے کر غَيْرَ مُسَافِحِينَ تک اور ان کا ترجمہ یہ ہے۔(النساء: ۲۳ تا ۲۵) اور جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے تم اُن کے ساتھ نکاح مت کرو۔اور جو ہو چکا اس پر کچھ مؤاخذہ نہیں ( یعنی جاہلیت کے زمانہ کی خطا معاف کی گئی ) اور پھر فرماتا ہے کہ باپ کی منکوحہ عورت کو اپنے عقد نکاح میں لانا بڑی بے حیائی اور غضب کی بات ہے اور بہت ہی برا دستور تھا۔تم پر یہ سب رشتے حرام کئے گئے ہیں۔جیسے تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور دائیاں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔اور دُودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری عورتوں کی وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پائیں اور تمہارے گھروں میں رہیں۔مگر عورتوں سے وہ عورتیں مراد ہیں جو تم سے ہم بستر ہو چکی ہوں۔اور اگر تم نے ان عورتوں سے صحبت نہ کی ہو تو اس صورت میں تمہیں نکاح کرنے سے مضائقہ نہیں۔اور ایسا ہی تمہارے بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں مگر وہ بیٹے جو تمہارے صلبی بیٹے ہوں۔متینی مراد نہیں ہیں۔اور یہ حرام ہے کہ تم دو : دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرو اور دونوں تمہارے نکاح میں ہوں مگر جو پہلے اس سے گزر گیا اس پر کچھ مؤاخذہ نہیں۔بے شک