شرح القصیدہ — Page 83
شرح القصيده ۸۳ شرح۔عرب لوگ جو اسلام سے پہلے ہر قسم کی بھلائی سے محروم اور ہر قسم کی بُرائی سے ملوث تھے۔جن سے بڑھ کر اُجڈ اور جن سے زیادہ اگھڑ رُوئے زمین پر اور کوئی قوم نہیں تھی جو تہذیب و تمدن سے بالکل عاری ، جن میں تقویٰ اللہ کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔جو نام و نمود اور شہرت کے دلدادہ تھے۔اُن کی حالت ان لوگوں کی سی تھی جن کے مال و متاع ڈاکوؤں نے لوٹ لئے ہوں اور جن کے پاس بدن ڈھانکنے کے لئے بھی کوئی کپڑا نہ بچا ہو۔ایسے حالات میں وہ اے میرے سید و مولیٰ تیری خدمت میں حاضر ہوئے۔تُو نے انہیں دولت اسلام بخشی اور تقویٰ کا لباس عطا فرمایا اور ایمان کی چادریں اوڑھا ئیں اور نیکیوں کے میدان میں ایک دوسرے سے گوئے سبقت لے جانے کی کوشش کرنے والا بنادیا اور تیری پیروی کی برکت سے ان کالباس ایمان اور تقویٰ ہو گیا۔وَلِبَاسُ التَّقوى ذلِكَ خَيْرٌ۔اس شعر سے لے کر شعر نمبر ۳۹ تک اس انقلاب عظیم کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عرب قوم میں ظہور پذیر ہوا۔-٢١ صَادَفَتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبيكَةِ الْعِقْيَانِ معانی الالفاظ - روٹ۔لید۔گوبر۔اس کی جمع آروان ہے۔الشبيكة۔چاندی یا سونے کی صاف کی ہوئی ڈلی۔اس کی جمع سبائك ہے۔