شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 76 of 198

شرح القصیدہ — Page 76

شرح القصيده اللہ تعالیٰ ان مومنوں کو جنہیں قتل کرنے کے لئے کا فر چڑھ چڑھ کر آتے ہیں حکم دیتا ہے کہ وہ کافروں کا مقابلہ کریں کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر قدرت رکھتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وطن سے صرف اس لئے نکال دیئے گئے کہ انہوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔“ اللہ اللہ ! ان پر کتنے ظلم کئے گئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی مظلوم ٹھہرے اور مخلوق کی نظر میں بھی۔اس لئے ان کا ثابت قدم رہنا اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص کا نتیجہ تھا۔-١٢ نَهَبَ اللّقَامُ نُشُوبَهُمْ وَعَقَارَهُمْ دو فتهللوا بجواهر الْفُرْقَان معانی الالفاظ - العقار - آقاتُ الْبَيْتِ اور غیر منقولہ جائیداد و زمین ، گھر وغیرہ۔نُشُوبْ - نَسَب کی جمع ہے۔اس کے اور تہلل کے معنے کے لئے دیکھو شعر نمبر ۱۲٫۹۔ترجمہ۔ذلیل و کمینہ اوباشوں نے اُن کے مال اور اُن کی جائیدادیں لوٹ لیں۔لیکن فرقان کے قیمتی موتی پاکر ان کے چہرے خوشی سے چمک اُٹھے۔