شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 75 of 198

شرح القصیدہ — Page 75

شرح القصيده ۷۵ پر انہوں نے دم نہ مارا۔وہ قربانیوں کی طرح ذبح کئے گئے پر انہوں نے آہ نہ کی۔خدا کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام ہیں بار با پتھر مار مار کر خون سے آلودہ کیا گیا مگر اُس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کو دلی انشراح اور محبت سے برداشت کیا اور ان صابرانہ اور عاجزانہ روشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور انہوں نے اس مقدس جماعت کو اپنا ایک شکار سمجھ لیا۔تب اُس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پر ظلم اور بے رحمی حد سے گزر جائے اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اُس کا غضب شریروں پر بھڑ کا اور اُس نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں میں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور میں خدائے قادر ہوں ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔یہ حکم تھا جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا۔“ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۵) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اُن کے مظلوم ہونے کی شہادت دی۔فرمایا: وو " أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى b نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ و الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ۔(الحج:۴۱،۴۰)