شرح القصیدہ — Page 56
شرح القصيده -^ يَا ۵۶ بَدَرَنَا يَا آيَةَ الرَّحْمَنِ أهْدَى الْهُدَاةِ وَ اشْجَعَ الشُّجُعَانِ - إلى أرى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَلل شأنا تَفُوقُ شَمَائِلَ الْإِنْسَانِ معانی الالفاظ - المذی و المجمع - اسم تفضیل کے میلے ہیں۔یعنی سب سے بڑا ہادی اور سب سے بڑا بہادر۔سو مُتَهَلَّل - تهلل سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔تَبَلَّلَ الْوَجْهُ أَوِ السَّحَابُ کے معنے ہیں چہرہ یا بادل چمک اُٹھا۔تهلل فُلَانٌ کے معنے ہیں تَلَ لَا وَجْهُهُ مِن الشرور کہ اس کا چہرہ خوشی سے چمک اُٹھا۔شَمَائِلُ - شَمِيلَةٌ کی جمع ہے جس کے معنے طبیعت اور خصلت کے ہیں۔ترجمہ نمبر ۸۔اے ہمارے چودھویں کے چاند اور اے رحمن خدا کے نشان! اے سب ہادیوں سے بڑے ہادی اور سب بہادروں سے بڑے بہادر! نمبر ۹۔میں تیرے مسرور اور فرحان و درخشاں چہرے میں ایک ایسی شان دیکھتا ہوں جو انسانی شمائل سے بڑھ کر ہے۔شرح۔آپ کو بدر اس لحاظ سے بھی کہا گیا ہے کہ انسانی نسل کی ہدایت