شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 35 of 198

شرح القصیدہ — Page 35

شرح القصيده ۳۵ یعنی بعینہ وہی چیز۔اس معنے کے لحاظ سے پہلے مصرعہ کا یہ ترجمہ ہو گا۔اے اللہ کے مجسم فیض و عرفان۔فَيْضٌ : فَاضَ السَّيْلُ فَيْضًا اس وقت کہا جاتا ہے جب سیلاب کا پانی زیادہ ہو کر وادی کے کناروں پر سے بہہ پڑے۔مَاءً فَيْضٌ کے معنے ہیں بہت پانی۔اور اصطلاح میں فیض اللہ سے مراد وہ روحانی علوم اور ربانی اسرار ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنے فضل سے بکثرت عطا فرماتا ہے۔بقیہ حاشیہ: اس میں تیخون کانون جو متحرک تھا ساکن کر دیا گیا ہے۔اسی طرح امرئ القیس کے شعر فَالْيَوْمَ أَشْرَبُ غَيْرَ مُسْتَحْقِبٍ انها مِّنَ الله وَ لَا وَاغِلِ میں اشرب کی تباء جو متحرک تھی ساکن کر دی گئی ہے اور کبھی قافیہ کی موافقت کی خاطر متحرک کو ساکن کر دیتے ہیں۔جیسے مقامات ہمدانی کے مقاله المغزلية میں الشبل کی متحرک باء ساکن کی گئی ہے۔مَلِيحُ الشكل ضَاءِ زَهِيدُ الاكل رام كَثِيرُ القبل خَوْفُ اللَّحَى وَ السَّبُلِ اور کبھی تخفیف کے لئے ایک حرف حذف کر دیا جاتا ہے۔جیسا کہ کعب بن زہیر کے شعرے فَمَا تَدُومُ عَلَى حَالٍ تَكُونُ بِهَا كَمَا تَلَوَّنُ فِي اثْوَابِهَا الْغُولُ میں تتلون کی تاء حذف کر دی گئی ہے۔اور کبھی غیر منصرف کو منصرف کی طرح پڑھا جاتا ہے۔جیسا کہ کعب بن زہیر کے شعر میں ؎ تخلى على يسَرَاتٍ وَ هِيَ لَاحِقَةُ او ذَوَابِل مُسْهَنِ الْأَرْضِ تَخْلِيل ل ذَوَابِل تنوین کے ساتھ باندھا گیا ہے۔(شمس)