شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 34 of 198

شرح القصیدہ — Page 34

شرح القصيده ۳۴ - يَا عَيْنَ فَيضِ اللهِ وَ الْعِرْفَانِ يسعى إِلَيْكَ الْخَلْقُ كَالظَّمَانِ - معانی الالفاظ۔عین۔اس لفظ کے عربی زبان میں قریباً ساٹھ معنے ہیں لیکن یہاں اس کے معنے بہنے والے چشمہ یا منبع کے ہیں اور اس کی جمع آغین اور عیون ہے اور اس کے ایک معنے ذَاتُ الشّيء و نَفْسُۂ ہوتے ہیں۔ا۔اس قصیدہ کی بحر الرجز ہے اور اس کا وزن مُسْتَفْعِلُن مُسْتَفْعِلُنَ مُسْتَفْعِلُن مزر ہے۔اس بحر کے مشہور چار عروض اور پانچ ضربیں ہیں۔پہلے شعر میں عروض اوّل اور ضرب مقطوع ہیں۔مقطوع سے مراد یہ ہے کہ اس کا آخری حرف کاٹ دیا گیا ہے یعنی مُسْتَفْعِلُن کانون گرا دیا گیا ہے باقی مُسْتَفْعِل رہ گیا ہے۔پھر اسے مَفْعُولُن بنادیا گیا۔پہلے شعر کی تقطیع یوں ہے:۔يَا عَلَى نَفَى ضِلَّ لَا هِ وَلْ عِرْفَانِي يَسْعَى إِلَى كَلْ خَلْ قُكَظ ظَمْ أَنِي مُسْتَفْعِلُن مُسْتَفْعِلُن مَفْعُولُن مُسْتَفْعِلُن مُسْتَفْعِلُنَ مَفْعُولُن اس قصیدہ کے ابیات کے عروض میں کبھی نہین واقع ہو کر مُسْتَفْعِلُنْ مَفَاعِلُن کی صورت میں تبدیل ہو گیا ہے اور کبھی زحاف طی واقع ہو کر مُسْتَفْعِلُن اور زحاف قطع داخل ہو کر مَفْعُولُن بن گیا ہے۔وَ عَلى هَذَا الْقِيَاس اور بعض موقعوں پر اسکان و تحریک اور بعض جگہ تخفیف حروف و حرکات سے بھی جنہیں شعرائے عرب نے جائز قرار دیا ہے ، کام لیا گیا ہے۔شعرائے عرب کے کلام میں ایسے تصرفات بکثرت موجود ہیں کبھی وہ متحرک کو ساکن کر دیتے ہیں۔جیسے شعر ؎ تَامَتْ فُؤَادَكَ لَوْ يَحْزُنُكَ مَا صَنَعَتُ إحدى نِسَاءِ بَنِي ذُهْلِ ابْنُ شَيْبَانًا