شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 178 of 198

شرح القصیدہ — Page 178

شرح القصيده IZA سے جو تازہ نشانات آپ کے ہاتھ پر ظاہر کئے انہیں پیش کر کے آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زندہ نبی ہونا اور اسلام کا زندہ مذہب ہونا اور قرآن مجید کا زندہ کتاب ہونا ثابت کیا ہے۔- يَا رَبِّ صَلِّ عَلَى نَبِيَّكَ دَائما في هذِهِ الدُّنْيَا وَ بَعْثٍ ثَانٍ ترجمہ۔اے میرے رب ! اپنے نبی پر ہمیشہ درود بھیج۔اس دُنیا میں بھی اور دوسرے عالم میں بھی۔شرح۔چونکہ گزشتہ اشعار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا ذکر تھا اور اُن انعامات الہیہ کا جو آپ کے ذریعہ مصنف قصیدہ پر ہوئے اس لئے اُن کے خیال سے طبعی طور پر آپ کے دل میں دُعا کا جوش پیدا ہوا اور آپ نے اس شعر میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ وہ اس دُنیا میں بھی آپ کے درجات بلند کرے اور آخرت میں بھی۔اور آپ پر ہمیشہ اپنی رحمت کی بارش نازل فرماتا رہے۔اور درود کا ذکر اس لئے بھی کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور محبت کرنے کے صلہ ہی میں آپ کو تمام برکات رُوحانی عطا ہوئی ہیں۔چنانچہ مندرجہ ذیل الہام کی تشریح میں جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا تحریر فرماتے ہیں: صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ