شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 156 of 198

شرح القصیدہ — Page 156

شرح القصيده ۱۵۶ افق ان کی تجلی سے معمور تھا۔کہاں یہ عظیم الشان تجلی اور کہاں کبوتر ی! پھر اُس نے کہا آپ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی آیت بَلْ رَّفَعَهُ الله کے مطابق آسمان پر اُٹھائے گئے اور اب تک زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے مگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عام انسانوں کی طرح وفات پا گئے۔میں نے کہا آپ کو میرے عقیدے کا علم نہیں۔میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔وہ حیران ہو کر پوچھنے لگا۔یہ کیسے؟ میں نے کہا ظاہری لحاظ سے تو سب نبی وفات پاگئے اور آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء :۱۵۹) میں رفع سے مراد بلندی درجات اور تقرب الی اللہ ہے۔یہود نے کہا تھا کہ انہوں نے مسیح کو صلیب پر لٹکا کر مار دیا جس سے ان کا لعنتی ہونا ثابت ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ یہود نے اُسے صلیب پر لٹکا کر مارا نہ کسی اور طریق سے قتل کیا اس لئے وہ لعنتی نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقرب تھا۔اور رفع کا فاعل جب اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول کوئی ذی روح انسان تو زبان عرب میں اس کے معنے سوائے تقرب الی اللہ اور رفع درجات کے اور کچھ نہیں ہوتے۔آسمان پر اُٹھانے کے تو کیا کسی پہاڑی یا ٹیلے پر اُٹھانے کے بھی نہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں بلعم باعور کے متعلق آتا ہے وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَ لَكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوَاهُ (الاعراف: ۱۷۷) یعنی ہم چاہتے تو ان آیات کے ساتھ اُس کا رفع کرتے لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی۔اس آیت میں تو رفع کے مقابلے