شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 155 of 198

شرح القصیدہ — Page 155

شرح القصيده ۱۵۵ تیسری آیت اُس نے یہ پیش کی کہ قرآن مجید میں حضرت مسیح کے متعلق ایده بِرُوحِ مِنْهُ آیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی رُوح القدس سے تائید کی تھی۔میں نے کہا حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (الحجر:٣٠) کہ میں نے اُس میں اپنی رُوح پھونکی اور سب فرشتے اس کے لئے سجدہ میں اگر پڑے۔حالانکہ مسیح کے لئے کبھی فرشتوں نے سجدہ نہیں کیا۔البتہ انجیل متی میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ شیطان نے مسیح سے کہا تھا کہ تم مجھے سجدہ کرو۔اور رُوح سے مراد حضرت جبرائیل ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت سے فرمایا۔آنْشِدُ وَ رُوحُ الْقُدُسِ مَعَكَ کہ تم شعر پڑھو اور روح القدس تمہارے ساتھ ہے۔اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ صحابہ کے حق میں فرماتا ہے وَأَيَّدَ هُمُ بِرُوحِ مِنْهُ ( المجادلة : ۲۳ ) کہ اللہ تعالیٰ نے رُوح القدس سے اُن کی تائید کی ہے۔اور صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد تھے اس لئے مسیح علیہ السلام بھی جن کی روح القدس سے تائید ہوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بمنزلہ شاگرد ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى (النجم : ۶) کہ انہیں شدید القویٰ نے سکھایا۔شید ید القویٰ حضرت جبرائیل کی ایک تعلی کا نام ہے جیسے روح القدس۔انجیل میں آتا ہے کہ مسیح" پر روح القدس کبوتری کی شکل میں نازل ہوئی لیکن حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیل کے ظاہر ہونے کے وقت سارا