شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 130 of 198

شرح القصیدہ — Page 130

شرح القصيده میں ممکن طور پر جمع ہو سکتے تھے وہ آپ کی ذات بابرکات میں باحسن وجوہ پائے گئے۔گویا اس مصرعہ میں حدیث قدسی لَوْلا كَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ كا مضمون ادا کیا گیا ہے۔اس حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دائرہ انسانیت کا نقطہ مرکز یہ قرار دیا ہے جس پر تمام انسانی کمالات ختم ہو جاتے ہیں۔۱۹۲۸ء کا ذکر ہے جبکہ میں بمقام حیفا ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔ایک روز جبکہ میں اس کی دوسری منزل کی بلکنی ( شہ نشین ) پر بیٹھا ہوا تھا نا بلس کے مشہور دو تاجر جو اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے مجھ سے ملے اور دورانِ گفتگو میں اُن میں سے ایک نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا۔میں نے اس کا عام مفہوم بتا یا لیکن اُس کی تسلی نہ ہوئی۔اُس نے کہا یہ بات غیر معقول نظر آتی ہے کہ اگر ایک شخص پیدا نہ ہوتا تو ساری دنیاہی پیدا نہ کی جاتی۔اس کے اعتراض سے میں نے اپنے دل میں ایک اضطراب کی سی کیفیت محسوس کی اور یہ خواہش زور سے پیدا ہوئی کہ کوئی ایسا حل معلوم ہو جائے جس سے ان کی تسلی ہو جائے۔الحمد للہ ! کہ میرے دل میں دفعتہ ایک مضمون ڈالا گیا جو میں نے تفصیل سے اُن کے سامنے بیان کیا۔میں نے کہا جب انسان کسی چیز کی ساخت شروع کرتا ہے تو اُس کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اُس کو ایسا مکمل بنائے کہ اُس میں کوئی نقص باقی نہ رہے اور وہ اپنی طرف سے اس میں کوشش کا کوئی پہلو اُٹھا نہیں رکھتا۔لیکن انسانی کاموں میں نقص رہ جانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نہ تو انسان کا علم کامل ہوتا ہے اور نہ اُسے ہر چیز پر قدرت حاصل ہوتی ہے۔مثلاً ایک گھڑی ساز جو اپنے فن میں کیسا ہی ماہر کیوں نہ ہوا یسی گھڑی ہرگز نہیں بنا سکتا جو ہر وقت چلتی رہے اور اس میں نقص کبھی پیدا نہ ہو۔وہ ایسی گھڑی کیوں نہیں بنا سکتا ؟ اس لئے کہ اس کو علم تام نہیں اور وہ ایسا مٹیریل