شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 125 of 198

شرح القصیدہ — Page 125

شرح القصيده ۱۲۵ ایسی خوبصورت اور حسین عورت کے ہوتے ہوئے اُسے دوسری شادی کی اجازت قطعاً نہ ملنی چاہیے۔ایک صوفی صاحب بھی اُس مجلس میں موجود تھے۔ان کو یہ ٹن کرغش آ گیا۔حاضرین میں سے کسی نے طنزاً کہا۔لو ان کے تصوف کی حقیقت بھی آشکار ہوگئی۔ایک عورت کے حسن کی تاب نہ لا کر غش کھا گئے۔صوفی صاحب نے ہوش میں آکر کہا کہ مجھے تو ایک عورت کے حسن سے اللہ تعالیٰ کے حسن کا جلوہ نظر آ گیا۔جب ایک حسین عورت کو اپنے حسن پر اتنا ناز ہے کہ وہ اپنا شریک برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تو اللہ تعالیٰ نے جو تمام حسینوں سے بڑھ کر حسین اور مخزن ومصدرِ جمال و رعنائی ہے اپنے لئے شریک کیونکر گوارا کر سکتا ہے اور اس کی غیرت کس طور پر برداشت کر سکتی ہے کہ اُس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے۔پس آپ فرماتے ہیں کہ جب میرا محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام بنی آدم میں سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ جمیل اور خوبصورت ہے تو پھر دوسروں کو چھوڑ کر اُسی سے محبت کیوں نہ کی جائے۔۴۳۔سُجُحٌ كَرِيمٌ بَاذِلُ خِلُ التَّقَى خِرْقٌ وَ فَاقَ طَوَائِفَ الْفِتْيَانِ معانی الالفاظ۔شیخ۔نرم مزاج ، سہل الوصول ، خوش خلق۔بَاذِل - خرچ کرنے والا سخاوت کرنے والا۔خل۔دوست۔خزقی سخی ، کریم۔اس کی جمع آخَرَاقُ وخِرَاق ہے۔طوائف - گروہ۔طَائِفَةٌ کی جمع ہے۔