شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 102 of 198

شرح القصیدہ — Page 102

شرح القصيده ۱۰۲ رَسُوْفٌ الْمَرْأَةُ الطَّيِّبَةُ الْفَمِ۔یعنی معطرد من عورت۔(لسان العرب ) ترجمہ۔بہتیرے تھے جو معطر دہن عورتوں کے عشق میں سرگردان تھے لیکن تُو نے انہیں فرقان کی طرف کھینچ لیا۔شرح۔یعنی پہلے وہ خوبصورت عورتوں کے عشق میں سرگردان تھے لیکن اے میرے محبوب ! تو نے انہیں اللہ تعالیٰ کے کلام فرقان مجید کا ایسا گرویدہ اور عاشق بنا دیا کہ وہ اُسی کے ہور ہے اور مطابق حدیث الدُّنْيَا سِجْنُ لِلْمُؤْمِنِ قرآن مجيد کے احکام کی چار دیواری میں انہوں نے اپنی زندگی بسر کی۔ا أَحْيَيْتَ اَمْوَاتَ الْقُرُونِ بِجَلوَة مَاذَا يُمَائِلُكَ بِهَذَا الشّانِ معانی الالفاظ - آموَات - میت اور میت کی جمع ہے۔مردے۔الْقُرُونَ - قَرْن کی جمع ہے۔صدی - جَلْوَةٌ: جَلَا الْعُرُوسُ عَلَى زَوْجِهَا جلُوةً اُس وقت کہتے ہیں جب دُلہن دولہا کو پہلی دفعہ چہرہ دکھاتی ہے اور جلوةٌ وہ تحفہ ہے جوز فاف کے وقت دولہا دلہن کو پیش کرتا ہے۔ترجمہ۔تو نے صدیوں کے مردے ایک جلوہ سے زندہ کر دیئے۔کون ہے جو اس شان میں تیرا نظیر ہو سکے۔