شرح القصیدہ — Page 77
شرح القصيده LL شرح۔مخالفین اسلام نے ان کی منقولہ وغیر منقولہ جائیداد چھین لی لیکن قرآن مجید کے انمول موتی حاصل کر کے وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ ایک بے نظیر جائیداد تھی جو غیر فانی تھی۔نہ اُسے اُن سے کوئی چھین سکتا تھا نہ کوئی قزاق ٹوٹ سکتا تھا اور نہ کوئی چور چر اسکتا تھا۔وہ اس بیش بہا خزانہ کو لے کر جس ملک میں گئے اور جس قوم کے پاس پہنچے اُن کی بے حد عزت و تکریم کی گئی اور اسی دنیا میں اُنہوں نے اپنے خالق و مالک اللہ تعالیٰ سے بھی رضی اللہ عنہم کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔- كَسَحُوا بُيُوتَ نُفُوسِهِمْ وَ تَبَادَرُوا لِتَمَتُعِ الْإِيْقَانِ وَ الْإِيمَانِ معانی الالفاظ - گسحُوا - گسیح سے ماضی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔كَسَحَ الْبَيْتُ کے معنے ہیں گھر میں جھاڑو دی۔تبادَرُوا - تَبَادَر سے ماضی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔تَبَادَرَ الْقَوْمُ کے معنے ہیں کہ لوگوں نے ایک دوسرے سے کسی کام کے کرنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کی۔ترجمہ۔انہوں نے اپنے نفسوں کی کوٹھریوں کو خوب صاف کیا اور یقین اور ایمان کی دولت لینے کے لئے وہ جلدی سے آگے بڑھے۔شرح۔اس شعر میں صحابہ کی ایک اور خوبی کا ذکر کیا ہے۔وہ یہ کہ انہیں اس