شانِ قرآنِ مجید — Page 26
غالب ہونگی وجہ سے اس نے وہ وسعت قرآنی معارف کو بخشی ہے کہ اگر تمام درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے بیاہی بن جائیں ایران سے اس کے کہ معارف لکھے جائیں پھر بھی وہ ختم ہونے میں نہ آئیں مگر وسعت بعض اوقات تو بھیجا ہوتی ہے۔مگر فرمایا یہاں ایسا نہیں۔باوجود قرآنی مطالب کے اس قدر وسیع ہونے کے اسی میں کوئی بات لغو او ربے فائدہ نہیں کیونکہ ایک حکیم مستی کا یہ نازل کردہ کلام ہے۔۔۔۔۔ان میں ایک بات بھی خلاف حکمت نہیں بلکہ ایک ایک کو دیکھ کہ انسان قربان ہو جاتا ہے " دبیر شروانی بعد اقل ما جلد دل میں یہی ہے ہردم تیرا صحیفہ مچھ موں قرآن کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر معارف حدیث سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ کی روایت ہے کہ پیغمبر خداحمد مصطفے صلی اللہ لہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں یہ السلام میرے پاس آئے اور رانا محمد صلی الہ علیہ وسلم) کہایا يا تیری امت تیرے بعد فتنہ میں پڑنے والی ہے۔میں نے پوچھا اسے جبرئیل اس) فتنہ سے کیونکر مخلصی ہوگئی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ کتاب اللہ سے جس میں پہلوں اور پھلوں کی خبریں ہیں۔قرآن ہی تمہارے پیش آمدہ سب مسائل کا فیصلہ کر نیوالا ہے وہ اللہ تعالٰی کی مضبوط رہتی اور اللہ تعالی تک پہنچانے کی ون سیدھی ہے۔یدھی راہ ہے کہ قرآن قطعی اور آخر کی بات ہے اور وہ کوئی بے فائدہ اور