شانِ قرآنِ مجید — Page 29
PA۔۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سفر ملتان سے واپسی پر شیخ رحمت اللہ صاحب (مالک بیٹی ہاؤس کے یہاں قیام فرمایا۔دوران قیام لاہور مختلف مذہب وملت کے لوگ بکثرت آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے اور قرآنی خزائن سے مالا مال ہو کر جاتے رہے۔اسی اثناء میں عیسائیوں کی طرف سے ایک اعتراض پیش ہوا کہ قرآن مجید میں جو قصے درج ہیں جو بائیل سے لئے گئے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے ایک مہر کے کی تقریر کی اور بہت سے دلائل دے کہ نہایت جلال سے فرمایا :- جس طرح گھاس پوس اور چارہ گائے کے پیٹ میں جا کر ہو اور پھر نتھنوں میں جا کہ دودھ بن جاتا ہے اسی طرح توریت اور قبیل کی کہانیاں قرآن میں آکر نور در حمت بن گئیں۔ر مجدد اعظم جلد اول ماه از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم ؟ سورۃ الفیل میں پیشگوئی سورۃ الفیل میں بظاہر شکر امیر ہوہ کے مکہ اور بیعت کرنے اور تباہ ہونے کا واقعہ مذکور ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ : جیسے ہاتھی والوں کو چڑیوں نے تباہ کر دیا ایسا ہی یہ پیشگوئی قیامت تک جائے گی۔جب کبھی کوئی اصحاب الفیل پیدا ہو تب ہی اللہ تعالیٰ ان کے تباہ کرنے کے لئے ان کا کوششوں کو خاک میں ملا دینے کا سامان کر دیتا ہے۔" =