شان مسیح موعود — Page 59
پیش کی گئی ہیں جن میں حضرت عیسی علیہ السلام پر حضرت اقدس کی فضیلت کا کہ قرآن مسئلہ بیان ہوا ہے اور ان دونوں عبارتوں میں سائل نے تناقض قرار دیا ہے گھر حضرت اقدس نے سائل کے جواب میں حضرت عیسی علیہات ہم پر اپنی جزئی فضیلت کے عقیدہ کو جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے ، اپنے نبی نہ ہونے اور حضرت عیسی علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کو ہونے کے عقید کو بارش کی طرح وحی الہی سے صریح طور پر نبی کا خطاب پانے سے وابستہ قرار دیا ہے اور بھوئی فضیلت کے عقیدہ کو پہلے زمانہ کا عقیدہ قرار دیا ہے جبکہ آپ حضرت سینی علیہ السلام سے نبوت میں اپنی کامل نسبت نہیں سمجھتے تھے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی اور اپنے آپ کو محدث بمعنی ناقص نبی قرار دیتے تھے اور اپنی تمام شان میں حضرت مسیح ابن مریم سے بہت بڑھے کی ہونے کے عقیدہ کو بعد کا عقیدہ قرار دیا ہے جسے آپ نے پہلا عقیدہ ترک کر کے اختیار کرنا بیان فرمایا ہے۔پس جب اس دوسرے عقیدہ کو آپ نے بارش کی طرح وحی الہی سے صریح طور پر نبی کا خطاب پانے سے وابستہ قرار دیا ہے تو علت موجبہ اس دوسرے عقیدہ کی صریح طور پر نبی کے خطاب پانے کا انکشاف ہے۔ورنہ اگر صریح طور پر نبی کا خطاب پانے کا انکران نہ ہو چکا ہوتا اور یہ خطاب نبوت میں کامل نسبت کے مترادف نہ ہوتا تو کہ میں مطبوعہ الہام مقصد وہ کشتی نواح صفحه ۱۶ " مسیح محمدی، میسج موسوی) سے افضل ہے" کے الفاظ کی بھی آپ یہی توجیہہ کر لیتے کہ اس الہام میں مسیح مھدی کی سیج موسوی پر جوئی فضیلت کا ہی ذکر ہے۔