شان مسیح موعود — Page 204
تعریف کے رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام احادیث کے موعود بسیج کو لیٹی اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں نبی قرار دیتے ہیں اور اس طرح حضور زمرہ انبیاء کا فرد ہیں نہ کہ محض زمره اولیا کا فرد چنانچہ تمیم بر این احمدیہ حصہ پنجم میں نبی کے حقیقی معنی بیان کرنے کے بعد حضرت اقدس آیہ تحریمہ فرماتے ہیں :- مجھے خدا تعالٰی نے میری وحی میں بار بانہ امتی کر کے بھی پکارا ہے اور نبی کر کے بھی پکارا ہے۔ان دونوں ناموں کے سننے سے میرے دل میں نہایت لذت پیدا ہوتی ہے اور میں شکر کرتا ہوں کہ اس مرتب نام سے مجھے عزت دی گئی اور اس مرکب نام رکھنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ تا عیسائیوں پر ایک سرزنش کا تازیانہ لگے کہ تم تو میسی بن مریم کو خدا بناتے ہو۔مگر ہمارا نبی صلے اللہ علیہ وسلم اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور معیلی کہلا سکتا ہے حالانکہ وہ امتی ہے۔د تمیمه بر این احمدیہ حصه بحجم صفحه ۱۸۴) دیکھئے اس جگہ خط کشیدہ الفاظ میں " امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے" سے مراد بنی ہی ہے نہ کہ محض محدث کیونکہ محدثین جو نبوت نا قصہ رکھتے ہیں وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کے فیض سے بھی بنتے رہے ہیں۔اور اس جگہ صرف نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی امتیاز کا نشان بیان ہو رہی ہے کہ آپ صلے اللہ علیہ وسلم ہی اس دربعہ کے نبی ہیں کہ آپ کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور کسی نبی میں یہ قوت قدسیہ موجود نہیں تھی کہ اس کے