شان مسیح موعود — Page 192
997 اور ایک پہلو سے امتی کہنے کے بعد اس کی خود یہ تشریح فرما دی ہے:۔" تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو۔اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس نے نہی کے پہلو کے ساتھ امتی کا پہلو اپنی نبوت کی نفی یا اس میں کسی کمی کے پائے جانے کے اظہار کے لئے استعمال نہیں فرمایا بلکہ مرت یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال فرمایا ہے کہ آپ نے مقام نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بعد آپ کی قوت قدسیہ سے حاصل کیا ہے اور یہ امر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے کمال فیضان کا ثبوت ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اس درجہ کے نبی ہیں کہ آپ کا ایک امتی آپ کے فیض سے نبی ہو سکتا ہے۔علاوہ ازیں نہی کے ساتھ امتی کا لفظ اس غلط فہمی کو بھی دور کرنے کے لئے استعمال فرمایا ہے کہ گویا آپ حضرت عیسی علیہ السلام وغیرہ انبیاء سابقین کی طرح براہ راست یعنی منتقل نہیں ہیں۔پس حقیقۃ الوحی میں نبی کے ساتھ امتی کا لفظ آپ نے اپنی نبوت کو انبسیار کے بالمقابل ناقص درجہ کی نبوت جو محدثیت ہوتی ہے قرار دینے کے لئے بہتان نہیں فرمایا بلکہ صرف اپنی نبوت کے حصول کا ذریعہ ظاہر کرنے کے لئے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔نہیں آپ کی نبوت بواسطہ فیضانِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ملنے سے ناقص درجہ کی نہیں۔اسی لئے حضور نے چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۷ پر اسے ایک قسم کی نبوت ہی قرار دیا ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں مل سکتی ہے۔تبدیلی عقیدہ سے پہلے کی کتابوں" ازالہ اوہام وغیرہ کی تصنیف کے وقت حضور اپنے الہامات میں وارد شدہ نبی اور رسول کے الفاظ کی تادیل محدث یا ناقص نہیں یا نہ ٹی نہی کیا کرتے تھے۔مگر جب آپ پر وحی الہی کے ذریعہ یہ منکشف