شان مسیح موعود — Page 98
۹۸ اقدس صفت نبوت کو کامل طور پر رکھتے ہیں تو آپ کی نبوت ، نبوت خلقیہ کاملہ ہی ہوئی۔پس حضرت اقدس تمام محدثین امت کے بالمقابل کا مل ظلی نبی قرار پائے اور محدثین امت حضرت اقدس کے مقابلہ میں ناقص خلتی نبی۔گویا محدثین بالقوہ نہیں تو ہیں مگر بالفعل بنی نہیں۔کیونکہ بالفعل نہیں تو وہی ہو سکتا ہے جس پر کھلے کھلے طور پر اور ظاہر انہی کے لفظ کا اطلاق ہو۔پس شیخ نصری صاحب کا پہلا بیان حضرت اقدس کو محد ثین امت کے بالمقابل کامل علمی بنی ثابت کرتا ہے لیکن چونکہ مصری صاحب حضرت اقدس کے زمرہ انبیاء کا فرد ہونے سے انکار کرنا چاہتے تھے۔اس لئے انہوں نے اپنے پہلے بیان کے خلاف حضرت اقدس کی نبوت کو بھی ظلی نبوت نا قصہ قرار دے دیا ہے دروح اسلام صفحه بی تا ده حضرت اقدس کو غیر نبی محمد ثمین کے زمرہ کا فرد قرارہ دے سکیں کیونکہ ظلی نبوت، ناقصہ تمام محدثین امت کو حاصل ہوتی ہے میں شیخ صاحب کی اس تضاد بیانی پر سخت حیران ہوں۔کیونکہ اس سے پہلے شیخ صاحب اپنے مضمون میں یہ بھی لکھ چکے ہیں :- اب ذیل میں لفظ صریح طور پر (نبی۔ناقل) کی تشریح بھی عرض کر دی بھاتی ہے۔واضح ہو کہ یہ لفظ در حقیقت دیگر اولیاء کرام کے مقابلہ میں ہی استعمال ہوا ہے۔انہوں نے چونکہ کامل عکس نہیں لیا تھا اس لیئے ثبوت محمدیہ ان کے وجود میں گو موجود تھی مگر مخفی تھی۔کامل عکس سے حضور کی مراد یہ ہے کہ حقیقت کے لحاظ سے کامل ہو۔ورنہ ہر ولی یا ہر محدد و محمدت اپنے