شان مسیح موعود — Page 83
قول پیش کر کے حضرت اقدس اپنے آپ کو حضرت ہے اسلام سے ایسی جزوی فضیلت میں افضل ہی قرار دے رہے ہیں جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔پس شیخ صاحب کا یہ خیال باطل ہوا کہ تبدیلی عقیدہ پہلے افضل نہ کہنے اور بعد میں افضل کہنے میں ہوئی۔فضیلت آپ کی بہر حال جزوی ہی رہی ہے اور اس تب دینی عقیدہ سے آپ کے مقام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔کیونکہ اوپر کی عبارت میں حضرت اقدس نے اپنے آپ کو غیر نبی سمجھنے کے زہن میں حضرت عیسی علیہ السلام سے جزئی طور پر افضل ہی کہا ہے۔پس مکہ ایسا حب کا یہ کہنا غلط ہوا کہ تبدیلی پہلے افضل نہ کہنے اور بعد میں افضل کہتے ہیں ہوئی ہے۔بلکہ تبدیلی پہلے جزوی طور پر افضل کہنے اور بعد میں اپنی تمام شان میں افضل کہتے میں ہوئی ہے۔اور یہ تبدیلی حضرت اقدس نے اپنے بیان کے مطابق اس وقت کی ہے جب آپ پر یہ امر کھل گیا کہ آپ نے صریح طور پر نبی کا خطاب پایا ہے۔اس تبدیلئی عقیدہ سے پہلے حضرت اقدس پر جو الہامات آپ کی فضیلت کے متعلق نازل ہوئے حضرت اقدس اس وقت حضرت عیسی علیہ اسلام سے اپنی کامل نسبت نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں ایسی جزئی فضیلت پر ہی محمول فرماتے رہے ہو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔گویا جزوی طور پر اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل ہی قرار دیتے رہے۔مگر بعد میں اپنے آپ کو صریح طور پر نہیں کا خطاب یافتہ ہوتا سمجھے لینے پر آپ نے ایسی جزئی فضیلت کے عقیدہ پر قائم نہ رہنے کا اعلان فرما دیا جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔اور اس کے خلاف یہ متناقض عقیدہ