شان مسیح موعود — Page 71
اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ جب آپ اپنی تمام شان میں حضرت جیسے علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعوی کر رہے ہیں تو حضور کی اپنی شان" میں حضور کی شان نبوت بھی داخل ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی شان نبوت سے کم درجہ کی ہر گز نہیں بلکہ مساوی درجہ کی ہے کیونکہ مساوی درجہ کی شان نبوت ہی باقی فضائل مخصوصہ کے ساتھ مل کر حضور کے اپنی تمام نشان میں حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل ہونے کی علت ہو سکتی ہے۔چونکہ حضور تبدیلی عقیدہ کے بعد اپنے وجود میں کامل شان نبوت کا تحقق یقین کرتے تھے۔اسی لئے اس زمانہ میں آپ نے یہ تحریر فرما دیا کہ دونو سلسلوں (سلسلہ موسوی و سلسله محمدی - ناقل) کا تقابل پورا کرنے کے لئے ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی میسج بھی شان نبوت کے ساتھ آوے تا اس نبوت عالیہ محمدیہ۔ناقل ) کی کسر شان لازم نہ آوے " کی کی ) نزول مسیح صفحه ۴) اب اگر شیخ صاحب یہ کہیں کہ حضرت اقدس شان نبوت ناقص طور پر رکھتے تھے اور محض محدث تھے ، بنی نہ تھے تو اس سے دونو سلسلوں کا تقابل بھی پورا نہیں ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت عالیہ کی کسر شان بھی لازم آتی ہے۔کیونکہ اس صورت میں بقول شیخ صاحب حضرت عیسی علیہ السلام تو نبی ہوئے ہو حضرت موسی علیہ السلام کے آخری