شان مسیح موعود — Page 66
۶۶ مستلزم محال ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔پس جزوی فضیلت اور افضلیت کے دونوں عقیدوں میں سے اب دوسرا عقیدہ ہی آپ کے وجود میں متحقق ہو سکتا ہے کیونکہ حضرت اقدس نے حقیقۃ الوحی کی زیر بحث عبادت میں پہلے عقیدہ پر قائم نہ رہنا اور دوسرے عقیدہ کو اختیار کرنا بیان فرمایا ہے نہ کہ دونوں عقیدوں کا اپنے وجود میں جمع ہونا۔وفات پر جب دونوں عقیدوں میں آپ نے تناقض تسلیم کیا ہے جس قسم کا تناقض حضرت عیسی علیہ السلام کے اصالتا آسمان سے نازل ہونے کے عقیدے اور حضرت اقدس کے اپنے آپ کو مسیح موعود مان لینے میں ہے تو ظاہر ہے کہ تناقض کی وجہ سے یہ دونوں عقیدے جن میں ایک حیات مسیح اور دوسرا مشتمل ہے صادق نہیں ہو سکتے۔ان میں سے آخری عقیدہ ہی صادق ہے جو وفات مسیح کو مستلزم ہے۔اسی طرح جزئی فضیلت کا پہلا عقیدہ اور افضلیت کا دوسرا عقیدہ دونوں باہم تناقض رکھنے کی وجہ سے حضرت اقدس کے وجود میں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ ان دونوں کا آپ کے وجود میں جمع ہونا حضرت اقدس کے اس بیان کے خلاف ہے جس میں حضور نے پہلے عقیدہ پر قائم نہ رہتا اور اس کی بجائے دوسرے عقیدہ کو اختیار کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔دیکھئے حضور سائل کے جواب میں صاف تحریر فرماتے ہیں کہ اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ بنی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اسے سبزئی فضیلت