شان مسیح موعود — Page 58
کابل نسبت نہیں سمجھتا تھا۔اور دوسرے عقیدے کے اظہار میں حضور کے جواب کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے حضرت جیسے علیہ السلام پر اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہونے کے عقیدہ کا اظہار اس وقت کیا جب بارش کی طرح وحی الہی میں مجھے صریح طور پر دکھلے کھلے طور پر نبی کا خطاب دیا گیا۔یعنی کھلے کھٹے طور پر ثبوت میں حضرت عیسی علیہ السلام سے کابل نسبت رکھنے کا انکشاف ہو گیا۔گویا یہ فرما رہے ہیں کہ جب مجھے عیسی علیدات کام سے نبوت میں پوری نسبت رکھنا سمجھ میں آگیا تو اس وقت سے میں حضرت کیلئے علیہ اسلام پراپنی جزئی فضیلت کے عقیدہ پر قائم نہیں رہا اور اس کی بجائے میں نے اپنی تمام شان میں حضرت عیسی علیات ہم سے افضل ہونے کا عقیدہ اختیار کر لیا ہے۔چنانچہ حضور کے جواب کے الفاظ پر غور فرمائیں۔بیو یہ ہیں کہ اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی اور میری فضیلت کے متعلق ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالے کی بارش کی طرح چی الہی میرے پر نازل ہوئی۔اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی" (حقیقة الوحی صفحہ ۱۵۰۰۱۴۹) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مسائل کے سوال میں تو گو دو ایسی عبارتیں