شان مسیح موعود — Page 126
الہی سے صریح طور پر نبی کا خطاب پانے پر کی ہے (ملاحظہ ہو حقیقہ اوجی صفح ۱۴۹ (۱۵۰) اور اسی طرح مسائل کے سوال کے جواب کے خاتمہ پر تحریر فرمایا ہے :- بو شخص پہلے میسیج کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص سر یقیہ اور اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہیئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم ہو کچھ ہے پہلا ہے۔نہ د حقیقة الوحی صفحه ۱۵۵) پس دو جگہ حضرت اقدس نے اپنے جواب میں اپنی تمام شان میں حضر میں علیہ السلام سے افضل ہونے میں اپنی نبوت کا دل بھی بیان فرما دیا ہے۔لہذا شیخ مصری صاحب باقی وجوہ فضیلت بیان کرتے ہوئے ہر شق پر ایسا نوٹ دے کر کہ حضور نے اپنے نبی ہونے یا نبوت کو وجہ فضیلت نہیں بتلایا۔اس جگہ یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ گویا حضور نے حضرت عیسی علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہونے میں اپنی نبوت کا وغل قرار نہیں دیا۔شق اول کے طور پر شیخ مصری صاحب نے حقیقة الوحی تنها کی یہ عبارت درج کی ہے :- اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسی علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اس نتیجے کا ہوں جو خیرا ارسال ہے۔اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے "