شان مسیح موعود — Page 82
AK ہمارے نزدیک حدیث نبوی " هُوَ الَّذِي يَتَقَدَّ مُ عِيسَى ابْنَ مریم" میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کو اسی وجہ سے علی الاطلاق افضل قرار دیا ہے کہ وہ اپنی تمام شان میں حضرت مسیح ابن مریم سے بہت بڑھ کر ہونے والا تھا اور یہ امر امام مہدی کے نبی ہونے کو مستلزم ہے۔پھر حضرت اقدس نے تو تبدیلی عقیدہ سے پہلے زمانہ میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے خود تحریمہ فرمایا تھا :- تم تو قائل ہو کہ جوئی فضیلت ایک ادنی شہید کو ایک بڑے بینی پر جو سکتی ہے۔اور یہ کیا ہے کہ میں خدا کا فضل اپنے پر میسج سے کم نہیں دیکھتا۔مگر یہ کفر نہیں۔خدا کی نعمت کا شکر ہے۔تم خدا کے اسرار کو نہیں جانتے۔اس کو کیا کہو گے جو کہہ گیا۔هو افْضَلُ مِنْ بَعْضِ الأَنْبِيَاءِ " سراج منه صفحه ۴) لہذا حضرت اقدس کی اس عبارت سے ظاہر ہے کہ بعض مسلمان آپ کے حضرت مسیح علی انتظام پر اپنی جزئی تفضیلت کے اظہار کو بھی ناپسند کرتے تھے۔اس لئے حضرت اقدس ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اُن کے سامنے ان کے ایک سستم بزرنگ کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ امام مہدی بعض انبیاء سے افضل ہوگا۔پھر ان کا یہ مسلمہ عقیدہ بھی ان کے سامنے رکھتے ہیں کہ جوئی فضیلت تو ایک ادنی شہید یعنی غیر نبی کو ایک بڑے نبی پر بھی ہو سکتی ہے۔پس اس جگہ هُوَ افْضَلُ مِنْ بَعْضِ الأَنْبِيَاء كا