شان مسیح موعود — Page 81
Al ہے اور اس میں کوئی استبعاد شرعی موجود نہیں “ (روح اسلام صفحه ۱۲ و ۱۳) بہت خوب! یہ باتیں کسی کو شیخ مصری صاحب نے اس تقاریہ کی اپنے قلم سے آپ ہی تردید کر دی ہے کہ حضرت اقدس پہلے اہل السنت کے رسمی اور مروجہ عقیدہ کے رُو سے ولی کو نبی سے افضل کہنا جائز نہیں سمجھتے تھے کیونکہ جناب مصری صاحب نے اپنے اس بیان میں خود تسلیم کر لیا ہے کہ حدیث نبوی امام مہدی کو حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل قرار دیتی ہے اور یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ بعض آئمہ نے امام مہدی کو غیر نبی سمجھتے ہوئے بھی بعض انبیاء سے افضل قرار دیا ہے۔لہذا جن آئمہ نے امام مہدی کو بقول مصر کا صاحب غیرنی سمجھتے ہوئے بعض انبیاء سے افضل کہا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جزوی امور میں ہی افضل مراد لیا ہے نہ کہ علی الاطلاق افضل۔کیونکہ ایک غیر نبی کو علی الاطلاق انبیاء سے افضل قرار دینے میں تو انبیاء کی ہتک عزت ہے جس کے یہ آئمہ مرتکب نہیں ہو سکتے تھے لیس حضرت اقدس کے تریاق القلوب" میں یہ لکھتے یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو بنی پر ہو سکتی ہے د تخريات القلوب صفحه 10) کا مفہوم مسلمانوں کے مروجہ عقیدہ کے مطابق یہی ہوا کہ اس عبارت میں حضر اقدس اپنے آپ کو جنہوی امور میں حضرت علئے علیہ السلام سے افضل ہی قرار د سے رہتے ہیں۔