شان مسیح موعود — Page 69
44 بالا کتابوں ( دافع البلاء اور کشتی نوح ) میں بڑھ کر یا بالفاظ دیگر " افضل" لکھا ہے۔تو اس امر کو تسلیم کر کے بھی جب ہم حضرت اقدس کے جواب والی عبارت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں پہلے فضل نہ کہنے کی وجہ اس عبارت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ تبدیلی عقیدہ سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبوت میں حضرت کیسے علیہ السلام سے اپنی کامل نسبت نہیں سمجھتے تھے۔کیونکہ اس زمانہ میں آپ اپنے آپ کو نبی محدث کے معنوں میں کہتے تھے جو ظلتی طور پر نبوت نا قصہ رکھتا ہے۔نبی نہیں ہوتا۔اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام سے ہوئی یا ناقص نسبت رکھنے کی وجہ سے جب حضور پر کسی الہام کے ذریعہ حضرت مسیح علیہ سلام پر فضیلت کا اظہار ہوتا تھا تو آپ اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ اسلام سے علی الاطلاق افضل نہیں کہتے تھے بلکہ ان پر صرف جزئی فضیلت رکھنے کا اظہار کرتے تھے ہو ایک غیر نبی یا ولی کو نبی بچہ ہو سکتی ہے۔مگر جب متواتر وی میں آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب دیا جانا علم میں آیا تو پھر حضرت کیلئے علیہ اسلام سے نبوت میں اپنی کامل نسبت سمجھ لینے کی وجہ سے اس الہام کے نازل ہونے پر کہ میسج محمدی میسج موسدی سے افضل ہے“ رکشتی نوح صفحہ 14 مطبوعہ شائد آپ نے اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ سلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھے کو قرار دے دیا۔یا بالفاظ دیگر ان سے افضل ہونے کا اعلان فرما دیا۔چنانچہ یہ اعلان حضور نے اپنی کتاب " دافع البلاد" اور ریویو جلد اول میں فرمایا۔پس بالفرض اگر حضرت اقدس پہلے اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ السلام