شان مسیح موعود — Page 41
اپنی تمام شان میں بہت بڑھے کو ہونے کا عقیدہ اختیار کر لیا تھا تو پھر آپ نے اپنی کتاب" تریاق القلوب" میں جو دعویٰ مسیح موعود سے بعد کی کتاب ہے پھر یہی تبدیل کر دہ عقیدہ کیوں لکھ دیا کہ اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزو کی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے" ( تریاق القلوب صفحہ ۱۵۷) اس سوال کا کوئی معقول جواب مولوی محمد علی صاحب کے پاس نہ تھا اور نہ ان کے ہم خیالوں کے پاس کوئی جواب ہے۔علاوہ ازیں مولوی محمد علی صاحب کے اس نظریہ پر یہ اعتراض بھی پڑتا ہے کہ حضرت اقدس کے الفاظ " اوائل میں میرا یہ عقیدہ تھا کہ مجھے مسیح ابن مریم سے کیا نسبت سے مطلق نسبت کی نفی مراد نہیں تھی۔کیونکہ دعوی مسیح موعود سے پہلے ہی حضرت اقدس کو یہ الہام ہو چکا ہوا تھا۔انتَ أَشَدُّ مُنَاسَبَةً بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاشْبَهُ النَّاسِ بِهِ خُلُقًا وَخَلقًا وَ زَمَانًا " و ازالہ اوہام صفحه ۱۴ جواله بر این احمدیه یعنی " تو عیسی ابن مریم سے شدید ترین مناسیت رکھتا ہے اور خلق اور تعلقت اور زمانہ کے لحاظ سے اس سے تمام لوگوں سے بہت بڑھ کر مشابہت رکھتا ہے“ اس الہام سے ظاہر ہے کہ دعوتی میسیج موجود سے پہلے ہی آپ حضرت علی علیا اسلام سے الہام کے ذریعہ اپنی نسبت اور مشابہت قرار دے چکے تھے۔لہذا مجھے مسیح ابن مریم سے کیا نسبت " کے الفاظ میں مطلق نسبت کی نفی مراد نہیں۔بلکہ نبوت