شان مسیح موعود — Page 31
یات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے جیسے براہین احمدیہ میں میں نے لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں اسی طرح ، وائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسیت ہے۔وہ نہی ہے اور تمدن کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی قضیات قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں ہو خدا تعالے کی رحمی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی" حقیقة الوحی صفحه ۱۴۸ تا ۱۵۰) پس جب حضرت اقدس نے سائل کا سوال درست تسلیم کر کے اور تریاق القلوب اور ریویو کی دونوں عبارتوں میں خود بھی تناقض تسلیم کر کے اسی تناقض کے متعلق مسائل کو یہ جواب دیا ہے کہ آپ پہلے عقیدہ پر جو جنگی فضیلت کا عقیدہ تھا قائم نہیں رہے اور خدا تعالے کی وحی سے صریح طور پر نبی کا خطاب پانا معلوم کر کے آپ نے اپنی تمام نشان میں حضرت کی غیر اسلام سے فضل ہونے کا عقیدہ اختیار کیا ہے تو جناب مولوی محمد علی صاحب مرحوم کا یہ خیال تو بالکل درست نہیں تھا کہ سائل کا سوال زمانہ کی تقسیم کے لحاظ سے غلط تھا۔اس لئے حضور نے زمانہ کی تقسیم کا ذکر ترک کر دیا اور عام پیرایہ میں