شان مسیح موعود — Page 25
۲۵ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جوئی فضیلت (جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے۔ناقل ) قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالے کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا یعنی پہلا عقیده جزئی فضیلت والا تو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے ترک کرنے پر مجبور کیا۔ناقل ) اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نہبی اور ایک پہلو سے انتی اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عیار تیں بعدا کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر مخالف نے میری نسبت کیا فرمانا ہے۔میں بعد افعالے کی تئیس برس کی متواتر وچی کو کیو نکہ رو کر سکتا ہوں۔میں اس کی پاک وہی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہا تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے نازل ہو چکی ہیں۔میں تو خدا کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں یعینک مجھے اس کی طرف سے علم نہ ہوا۔میں نے وہی کہا جو اوائل میں میں نے کہا۔اور جب مجھے اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔مجھے عالم الغیب ہونے کا دعوئی نہیں۔(حقیقة الوحی صفحه ۱۴۰ تا ۱۵۰) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس نے حضرت عیسی علیہ السلام پر یسی جوئی فضیلت کا عقیدہ جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے بالکل ترک