شان مسیح موعود — Page 223
۳۲۳ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک <mark>نہی</mark>ں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک <mark>نہی</mark>ں کر سکتا جو خداتعالے کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔یہ تو تمکن ہے کہ کلام الہی کے معنی کرتے میں بعض مواضع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے مگر یہ ممکن <mark>نہی</mark>ں کہ میں شک کروں کہ وہ خدا کا کلام <mark>نہی</mark>ں “ پھر آگے پھل کر لکھتے ہیں :- تجلیات الہیہ صفحہ ۲۶-۲۷) پس وہ خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوتا ہے ایک خارق عادت کیفیت اپنے اندر رکھتا ہے اور اپنی نورانی شعاعوں سے اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔وہ فولادی میچ کی طرح دل میں دھنس جاتا ہے اور اپنی روحانی قوتوں کے ساتھ مجھے پر کر دیتا ہے۔وہ لذیذ اور فصیح اور حمایت بخش ہے اور ایک ا<mark>نہی</mark> مہیبت اپنے اندر رکھتا ہے اور غیب کے بیان کرنے میں تخیل <mark>نہی</mark>ں بلکہ غیب کی نہریں اس میں پھیل رہی ہیں۔" K د تجلیات النبيه صفحه ۱۲۷ پھر حضور اپنے آخری خط مندرجہ اخبار "عام " میں تحریہ فرماتے ہیں :- یکن بعدا کے حکم کے مطابق <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> ہوں۔اگر میں اس میں شک کروں تو یہ میرا گناہ ہو گا " پس حضرت اقدس کا اپنی وحی کو قرآن شریف پر عرض کرتا اس لئے نہ تھا